ادارہ کتاب و حکمت

سوال: سعودی عرب میں امریکی اڈے  کیوں ہیں؟

سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے کیوں ہیں اور ان کی تاریخ کیا ہے؟

سوال: سعودی عرب میں امریکی اڈے  کیوں ہیں؟

جواب:

دیکھیے! ہر شخص کو دلیل، تہذیب اور باہمی احترام کے ساتھ اختلاف کا پورا حق ہے ہمارے بعض تجزیہ نگار اس کو شرعی طور پر درست نہیں سمجھتے ہیں  تاہم ایک نقطۂ نظر میں سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو خطے کے مجموعی حالات اور سعودی عرب کے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے گزشتہ چند دہائیوں میں عراق، یمن، لبنان اور شام میں ایران اور ایران سے وابستہ گروہوں کا کردار خطے کی سیاست اور سلامتی کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے خاص کر ایران کی طرف سے سوریا میں جو قتل و غارت ہوئی وہ سب دنیا جانتی ہے  اور اب یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں نے یہ واضح کیا کہ سعودی عرب کے لیے یہ خطرات محض نظری یا خیالی نہیں، بلکہ عملی نوعیت کے بھی ہیں سعودی قیادت اپنے ملک، سرحدوں، مقدس مقامات اور اہم تنصیبات کے تحفظ کو بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے ساتھ امریکہ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ عسکری اور دفاعی تعاون قائم کیا۔ سعودی نقطۂ نظر سے ایسے معاہدوں کا بنیادی مقصد بیرونی خطرات کا مقابلہ، دفاعی استعداد میں اضافہ اور خطے میں طاقت کا ایسا توازن قائم رکھنا ہے جو کسی ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کرسکےلہٰذا اس معاملے کو محض تنقیدی نظر سے  یہ کہہ کر دیکھنا کہ سعودی عرب میں امریکی فوج کیوں موجود ہے؟کافی نہیں؛ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سے علاقائی حالات اور سکیورٹی خدشات ہیں جنہوں نے سعودی عرب کو ایسے دفاعی اتحاد اور معاہدوں کی طرف مائل کیا اور تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ مائل کرنے والا بھی شاید  ایران ہے

واللہ أعلم بالصواب

عبدالمنان راسخ

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔