سورت الفلق والناس: معانی اور فضائل
تحریر: عبدالمنان راسخ
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۱ۙ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۲ۙ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۳ۙ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ۴ۙ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۵ (1)
’’فرمادیجئے! میں فلق کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں ہر اُس چیز کے نقصان سے جسے اُس نے پیدا کیا اور اندھیری رات کے نقصان سے جب اُس کا اندھیرا چھا جائے اور گرہوں میں پھونکنے والی ’’جادوگرنیوں‘‘ کے نقصان سے اور حسد کرنے والے کے نقصان سے، جب وہ حسد کرنے لگ جائے۔‘‘
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۱ۙ مَلِكِ النَّاسِ۲ۙ اِلٰہِ النَّاسِ۳ۙ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ۴۠ۙ الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ۵ۙ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ۶ (2)
’’فرما دیجئے! میں انسانوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں، انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے کے نقصان سے، جو ہٹ ہٹ کر آنے والا ہے، جو انسانوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ کی توفیق سے مندرجہ ذیل موضوع کا مطالعہ پوری یکسوئی کے ساتھ کریں اور اِس پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں، آپ ساری زندگی ہر قسم کے خطرناک نقصانات اور ظاہری اور پوشیدہ سب دشمنوں کی دشمنی سے محفوظ رہیں گے اور اِس کی برکت سے اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں جہانوں پر سلامتی عطا فرمائے گا۔
یہ عظیم مضمون قرآن پاک کی آخری دو سورتوں کی اہمیت، حیثیت اور فضیلت پر مشتمل ہے، قرآن مجید کی آخری دو سورتوں کا نام، سورت فلق اور سورت الناس ہے اور اِن دونوں کو ’’مُعَوّذَتَینِ‘‘ کہتے ہیں، یعنی دو پناہ دینے والی سورتیں، سورت فلق مکی ہے، اِس کی 5 آیات ہیں اور اِس کے 71 حروف ہیں، جو مسلمان ایک مرتبہ سورت فلق پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کو کم از کم 710 نیکیاں عطا فرماتے ہیں، اِسی طرح سورت ناس بھی مکی ہے، اِس کی 6 آیات ہیں اور اِس کے تقریباً 80 حروف ہیں، جو مسلمان اِس کو ایک مرتبہ پڑھتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کو 800 نیکیاں عطا فرماتے ہیں۔
یعنی جو مسلمان دونوں سورتوں کو ایک بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بغیر پڑھتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کو 1510 نیکیاں عطا کرتے ہیں اور اگر وہ دونوں کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لے تو پھر اللہ تعالیٰ کم از کم 1870 نیکیاں عطا فرماتے ہیں۔
آپ غور فرما لیں! ہر مسلمان بڑے ہی آرام سے آدھے منٹ میں کم از کم 1870 نیکیاں حاصل کر سکتا ہے اور جو اِس کو جتنے اِخلاص کے ساتھ، غوروفکر اور محبت کے ساتھ پڑھے گا ویسے ویسے نیکیاں بڑھتی جائیں گی اور درجات بلند ہوتے جائیں گے۔
مُعَوّذَتَین کا معنی
’’مُعَوّذَتَین‘‘ (یہ واؤ کی زیر اور تشدید کے ساتھ ہے) کا معنی ’’دو پناہ دینے والی سورتیں‘‘ اور پناہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی بھی چیز سے ڈر محسوس کرتے ہوئے، بے بس ہو کر یہ جان لے کہ میں اِس کا اکیلا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو وہ اپنے آپ کی حفاظت کے لیے اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے دوسرے کی آڑ میں چلا جائے اِس کو ’’پناہ‘‘ کہتے ہیں، کبھی کبھی تو اِنسان کسی خطرناک اور خوفناک چیز اور دشمن سے بچنے کے لیے کسی محفوظ جگہ میں یا کسی طاقتور آدمی کی پناہ میں آجاتا ہے اور یہ چیزیں بھی ’’مؤثر بالذات‘‘ نہیں ہیں، یعنی اَز خود کسی کو پناہ نہیں دیتی ہیں، بلکہ اِن میں بھی حقیقی اور اصلی مدد نصرت اور حفاظت اللہ کی ہے۔
لیکن قرآن پاک میں جس پناہ اور حفاظت کا ذِکر ہے اِس سے مراد وہ خطرات اور نقصانات ہیں کہ جن سے دنیاوی ذرائع اور اسباب نہیں بچا سکتے اُن سے بچانا صرف اور صرف اللہ ہی کا خاصہ ہے، جو شخص ایسے خطرات اور ایسے نقصانات میں فرشتوں، جنوں، دیوتاؤں، پیغمبروں، ولیوں یا پیروں کو نفع نقصان کا مالک سمجھ کر پکارتا ہے وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، مشرکین مکہ کا اور آج تک کے سب مشرکین کا یہی شرک ہے کہ وہ اللہ کے مقابلہ میں اور اللہ کی صفات کے مقابلہ میں غوث، قطب، ابدال اور مجذوبوں سے پناہ کے طلب گار بن جاتے ہیں، جو کہ پرلے درجے کا خطرناک شرک ہے۔
یہاں پر تین باتیں بھی اچھی طرح سمجھ لیں، ایک ہے پناہ طلب کرنا، ایک وہ چیز ہے جس کی پناہ میں آیا جائے اور تیسرے نمبر پہ وہ چیزیں ہیں جن سے پناہ مانگی جائے۔
’’اِستعاذہ‘‘ کا مطلب ہے پناہ طلب کرنا، ’’مُسْتَعَاذ بِہٖ‘‘ جس کی پناہ طلب کی جائے یا جس کے ساتھ پناہ طلب کی جائے اور وہ اللہ ہے اور اِسی طرح ’’مُسْتَعَاذ مِنْہُ‘‘ کا مطلب ہے وہ چیزیں جن سے پناہ مانگی جائے، جس طرح کوئی بیماری یا آفت وغیرہ۔
زندگی میں ہر قسم کے دشمن سے بچنے کے لیے
جو مسلمان اپنی زندگی میں ہر قسم کے نقصان اور دشمن سے بچنا چاہتا ہے، بلاؤں، آفتوں، شیطانی ہتھکنڈوں، ہر قسم کے جادو اور ہر قسم کی نظرِ بد سے محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اُس کے لیے آسان ترین اور شاندار کرنے والا کام یہ ہے کہ اِن دونوں سورتوں کا اچھی طرح معنی و مفہوم جان کر، اِن کے مطابق اپنا عقیدہ بنا کر اِن دونوں سورتوں کو اپنی زبان کا وِرد بنا لے اور پھر وہ مکمل طور پر بے فکر ہوجائے، کیونکہ جو مسلمان پورے یقین کے ساتھ اِن دو سورتوں کو اپنا وظیفہ، اپنا ذِکر اور اپنا وِرد بنا لیتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اُس مسلمان کو ظاہری، باطنی اور پوشیدہ ہر طرح کے دشمنوں سے محفوظ فرما لیتے ہیں۔
سورۃ الفلق کا خلاصہ
اِن دونوں سورتوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا تفصیلی ذِکر ہے، اِن گیارہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، الوہیت اور اُس کی توحید اسما و صفات کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ اُس کی بادشاہت، شہنشاہی اور سلطنت کو بیان کیا گیا ہے، پھر اِن آیات میں ایک سچا مسلمان اپنی کامل بے بسی کا اعتراف کر کے خود کو اللہ کی حفاظت میں دیتا ہے اور کہتا ہے اے میرے ربّ! اگر آپ نے مجھے اِن ظاہری و باطنی اور نقصان دینے والی چیزوں سے نہ بچایا تو مجھے دُنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔
اپنی بے بسی کا اظہار اور اللہ کی قوت و طاقت اور عظمت کا اعتراف ہی اصل توحید ہے کہ مسلمان صرف ایک اللہ سے ہی ہر قسم کی امید رکھے، آیئے! اِن گیارہ آیات کے معنی و مفہوم پر غور کرتے ہیں۔
- ’’قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‘‘ کا معنی ہے کہ میں ربّ الفلق کی پناہ میں آتا ہوں، ’’فلق‘‘ کا معنی صبح بھی ہے اور مخلوق بھی۔ یعنی کہ میں صبح کو روشن کرنے والے ربّ کی حفاظت میں آتا ہوں یا میں مخلوق کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں اور پھر اِسی طرح ’’فلق‘‘ کا ایک عمومی معنی ’’پھاڑنا‘‘ ہے، یعنی ظاہر کرنے والا، نمودار کرنے والا بھی ہے، اِس لحاظ سے مفہوم یہ ہوگا کہ میں اُس ربّ کی پناہ میں آتا ہوں جو صبح کی روشنی کو نمودار کرنے والا ہے، دانے کو پھاڑ کر کونپل نمودار کرنے والا ہے، گٹھلی سے پودے کو نمودار کرنے والا ہے، زمین کو پھاڑ کر نباتات اگانے والا ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے چشمے ابالنے والا ہے، انڈے کو پھاڑ کر چوزہ نکالنے والا ہے اور رحمِ مادر کو کھول کر بچہ پیدا کرنے والا ہے، میں اُس باکمال بااختیار پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔
- ’’مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘ اُس کی ہر مخلوق کے نقصان سے، یہ بظاہر ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن ایک سچا مسلمان یہ جملہ بول کر کائنات میں تکلیف دینے والی ہزاروں چھوٹی بڑی مخلوقوں کے نقصان اور شر سے اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے، اِس کائنات میں حکمت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے خطرناک درندے اور کیڑے مکوڑے پیدا کیے ہیں کہ جن کے نام اور جن کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کو انسان ساری زندگی جان بھی نہیں سکتا، لیکن اِس جملے کی برکت سے اللہ تعالیٰ ساری زندگی اپنے بندے کو اُن کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔
- ’’وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ‘‘ اور اندھیری رات کے نقصان سے جب وہ چھا جائے، زیادہ وارداتیں رات کو ہوتی ہیں جہاں رات کے وقت زمین کے کیڑے مکوڑے اور درندے باہر نکلتے ہیں وہاں چور، ڈاکو، قاتل اور انسانی دشمن بھی اکثر راتوں کو ہی حملہ آور ہوتے ہیں، ایک سچے مسلمان نے اللہ کی حفاظت اور پناہ میں آکر اپنے آپ کو بے بس کر کے اور خود کو ’’ربّ الفلق‘‘ کے حوالے کر کے کہہ دیا، اے میرے ربّ! اِس اندھیری رات میں آنے والے ہر نقصان سے میں تیری پناہ میں آتا ہوں، تو ہی اکیلا شہنشاہ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی پکار پر اور اُس کی صدا پر اُس کو درجنوں دشمنوں سے اور نقصان دینے والی چیزوں سے کافی ہوگیا۔
- ’’وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ‘‘ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے نقصان سے، عمومی طور پر جادو کرنے والے، جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈے کرنے والے اور ٹونے ٹوٹکے کرنے والے جادوگر مرد اور جادوگر عورتیں دھاگے وغیرہ پر پڑھ کر پھونکتے رہتے ہیں اور گرہیں لگاتے جاتے ہیں، اِن ظالموں کے عقیدے کے مطابق اِس طرح مطلوبہ شخص گرفت میں آجاتا ہے اور پھر وہ اُس کو تکلیف پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، یہ بدبخت لوگ اگرچہ اللہ کی اجازت کے بغیر نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن چونکہ دُنیا آزمائش کی جگہ ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر خیر کے ساتھ ساتھ شر کو بھی رکھ دیا ہے تاکہ اچھے اور برے بندے کی عملی طور پر پہچان ہو سکے، اِس لیے ظالم بے رحم لوگ اللہ تعالیٰ کے اِرشادات کو پسِ پشت ڈال کر دنیا کے لیے اور اپنے نفس کی تسکین کے لیے یہ حرام دھندے کرتے رہتے ہیں اور پھر مطلوبہ شخص کی غفلت کے پیشِ نظر کبھی کبھار کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، موجودہ حالات میں ہمارے ملک میں بڑے بڑے خطرناک نجومی اور کاہن اور جادوگر موجود ہیں اور کئی لوگ دشمنی اور حسد کی وجہ سے اُن کے پاس جاتے رہتے ہیں، اِس لیے اِن شریر دشمنوں اور جادوگروں سے بچنے کے لیے اِن دونوں سورتوں کو اپنی روحانی غذا بنا لیں۔
- ’’وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ‘‘ اور حسد کرنے والے کے نقصان سے جب وہ حسد کرے، آپ سب جانتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نعمتوں اور کامیابیوں سے نوازتا ہے تو کئی لوگ اُس پر خوش ہونے کی بجائے، دعا دینے کی بجائے جل بھن جاتے ہیں، حسد کر کر کے راکھ ہوجاتے ہیں، آپ یہودیوں کی تاریخ پڑھ لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اُن کو صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ سے حسد تھا اور وہ اِس بات پر بہت زیادہ جلتے کڑھتے تھے کہ محمد ﷺ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں سے آخری نبی اور رسول بن کر کیوں آگئے ہیں اور اِس سے پہلے کی تاریخ پڑھ لیں پہلا قتل بھی حسد کی وجہ سے ہوا، قابیل نے صرف حسد کی وجہ سے اپنے سگے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا تھا اور بردارانِ یوسف نے حضرت یوسف علیہ السلام جیسے چمکتے چاند کو کنویں کی گہرائیوں میں پھینک دیا تھا، اِس آخری ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اَز خود حاسدوں کے حسد سے بچنے کی ترکیب بھی بتلا دی اور وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا جائے کیونکہ اللہ کی خاص نصرت اور حفاظت کے بغیر کوئی شخص حاسدوں کے حسد سے نہیں بچ سکتا۔
سورۃ الناس کا خلاصہ
سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ’’ربّ الفلق‘‘ کا ذِکر ہوا اور پناہ تین چیزوں سے مانگی گئی ہے، لیکن اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذِکر ہوا ہے اور اس سے پناہ ایک چیز سے مانگی گئی ہے اور وہ شیطان ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلی اور انسان کا پرنسلی دشمن وہی شیطان ہے اور کوئی بھی انسان اللہ کی پناہ میں آئے بغیر شیطان کو شکست نہیں دے سکتا۔
- ’’قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ‘‘ آپ فرما دیں کہ میں اِنسانوں کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں، یہاں پر یہ نہیں کہا گیا کہ میں فلاں جتھے، گروہ، قبیلے، جماعت یا قوم کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں، بلکہ فرمایا گیا لوگوں کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں، جو پوری انسانیت کو پیدا کرنے والا، پالنے والا اور اُن کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے۔
- ’’مَلِكِ النَّاسِ‘‘ لوگوں کا بادشاہ ہے یعنی سب پر قانون اور حکم صرف اُسی کا چلتا ہے، وہ بادشاہوں کا بادشاہ، بہت بڑا شہنشاہ ہے، اُس کی پکڑ، گرفت اور سلطنت سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔
- ’’إِلَهِ النَّاسِ‘‘ لوگوں کا ’’الٰہ‘‘ ہے اور الٰہ کا ایک معنی معبود بھی ہے کہ وہ لوگوں کی عبادت کا اکیلا حقدار ہے۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ کی تین عالی شان صفات کا تذکرہ ہوا ہے کہ وہ انسانوں کو پالنے والا ہے، اُن پر پوری قدرت اور سلطنت رکھنے والا اُن کا بادشاہ ہے اور وہ پوری انسانیت کا اکیلا سچا معبود ہے تو جو ربّ اِس قدر زیادہ بلند صفات کا مالک ہے تو پھر اِسی کی حفاظت اور اِسی کی پناہ میں آنا چاہیے اور ہر مشکل میں صرف اُسی کو ہی پکارنا چاہیے اُس کے مقابلے میں کوئی اِس قابل ہے ہی نہیں کہ اُس سے مشکل کے دور ہونے کی امید رکھی جا سکے۔
- ’’مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ‘‘ وسوسہ ڈالنے والے کے نقصان سے، جو ہٹ ہٹ کر آنے والا ہے، یعنی بار بار وسوسہ ڈالنے والے، بار بار پیچھے ہٹنے والے اور ہٹ ہٹ کر دبے پاؤں چپکے چپکے وسوسہ ڈالنے والے شیطان کے نقصان سے اے ربّ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، یہ شیطان کا ایک طریقۂ واردات ہے کہ وہ شرک جیسے خطرناک گناہ سے لے کر چھوٹے گناہ تک، ہر گناہ کا اِنسان کے دِل میں بڑی مکاری کے ساتھ وسوسہ ڈالتا ہے، اُس کو گناہ پر اکساتا ہے، اُس کے دِل و دماغ پر گناہ کرنے اور شہوت ٹھنڈی کرنے کے جھوٹے فائدے وسوسے کے ذریعے پھونک دیتا ہے اور پھر اِس طرح لاکھوں لوگ اُس ازلی دشمن شیطان کے وسوسات کا شکار ہو کر اُس کے ساتھی بن جاتے ہیں، اِس لعین اور خطرناک دشمن سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو پوری بے بسی کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دے دیا جائے، ربّ مہربان ہو تو اِس دشمن کی شرارتوں اور اِس کے وسوسات سے بچا جا سکتا ہے، ورنہ اِس نے بڑے بڑے نیک پہلوانوں کی کمر زمین پر لگا دی ہے۔
- ’’الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ‘‘ جو انسانوں کے دِلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، یعنی شیطان کا اصل کام لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی ہے، یہاں سینوں سے مراد دل ہے، شیطان اِنسان کے دل میں برائی کا خیال پیدا کرتا ہے اور پھر وہ خیال آہستہ آہستہ خواہش بن کر ابھرتا ہے، پھر انسان آہستہ آہستہ اپنی شدید خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر برائی کا ارتکاب کر لیتا ہے۔
- یہاں پر اِس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ شیطان کئی لوگوں کو وہم کا مریض بھی بنا دیتا ہے، یعنی کہ وہ اُن کے دل میں ایک شک اور وہم پیدا کر دیتا ہے، وہ ایک نیکی کا کام کرنے کے باوجود بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ کام نہیں کیا، یا اِس کی ادائیگی میں کوئی کمی رہ گئی ہے، اللہ نہ کرے اگر کسی مسلمان کے ساتھ ایسی وہم کی خطرناک صورت بن جائے تو وہ بار بار اِن سورتوں کو پڑھے اور اچھے روحانی معالج سے اپنا علاج کروائے۔
- ’’مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ‘‘ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے، یعنی لوگوں کے دِلوں میں برائی کا وسوسہ ڈالنے والے شیطان جن بھی ہوتے ہیں اور اِنسان بھی۔ یہاں سے یہ حقیقت بھی بالکل واضح سمجھ آتی ہے کہ ’’شیطان‘‘ جنوں اور انسانوں سے ہٹ کر کوئی تیسری مخلوق نہیں ہے بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے جو وسوسہ اندازی کرتے ہیں، ربّ، رسول اور آخرت کی بغاوت پر اُکساتے ہیں، وہی اُن میں سے شیطنت کے درجہ پر پہنچ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِن سب کی سب شرارتوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
مُعَوّذَتَینِ کی اہمیت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں اپنے آپ کو اللہ کی حفاظت میں دینے کے لیے بہت سے وظائف اور اَذکار پڑھا کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ’’مُعَوّذَتَینِ‘‘ کا خزانہ دیا تو پھر آپ ﷺ اِن کی طرف ہی زیادہ توجہ رکھتے تھے، امام ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آپ کا معمول بیان کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں کہ:
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَیْنِ الْجَانِّ، ثُمَّ أَعْیُنِ الْإِنْسِ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ، أَخَذَھُمَا وَتَرَكَ مَا سِوٰی ذٰلِكَ (3)
اِس روایت سے آپ اچھی طرح اِن دونوں سورتوں کی اہمیت اور حیثیت کو سمجھ سکتے ہیں اور اِس کو سمجھنے کے بعد آپ کو بھی چاہیے کہ آپ اِن دو سورتوں کو اپنی زبان کا وِرد بنا لیں۔
مُعَوّذَتَینِ کی عظمت و جلالت اور مقام و مرتبہ
قرآن کا ایک ایک حرف باعثِ رحمت، باعثِ برکت اور باعثِ شفا ہے، لیکن اِس سب کچھ کے باوجود قرآن پاک کی اِن دو سورتوں کو ایک امتیازی شان حاصل ہے، جس کو قرآن کی کوئی دوسری آیت یا سورت نہیں پہنچ سکتی، اِس بات کا اندازہ اور فیصلہ آپ خود کریں، امام عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اِرشاد فرمایا:
أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آیَاتٌ لَّمْ یُرَ مِثْلُھُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ (4)
نسائی شریف کی ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں:
أُھْدِیَتْ لِلنَّبِیِّ ﷺ بَغْلَۃٌ شَھْبَآءُ فَرَکِبَھَا، وَأَخَذَ عُقْبَۃُ یَقُوْدُھَا بِہٖ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعْقْبَۃَ: اقْرَأ، قَالَ: وَمَا أَقْرَأُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اقْرَأُ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ فَأَعَادَھَا عَلَیَّ حَتّٰی قَرَأْتُھَا، فَعَرَفَ أَنِّی لَمْ أَفْرَحْ بِھَا جِدًّا، قَالَ: لَعَلَّكَ تَھَا وَنْتَ بِھَا، فَمَا قُمْتُ یَعْنِی بِمِثْلِھَا (5)
اور مسند احمد کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے نماز میں اِس جیسی کسی چیز کے ساتھ قیام نہیں کیا، یعنی قیام میں پڑھنے کے لیے یہ سورت اپنی مثال آپ ہے۔
اور اِس اسی طرح سورت فلق کے متعلق حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، فَقُلْتُ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَقْرِئْنِی سُوْرَۃَ ھُوْدٍ، وَسُوْرَۃَ یُوْسُفَ، فَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: یَا عُقْبَۃُ بْنَ عَامِرٍ، إِنَّكَ لَمْ تَقْرَأْ سُوْرَۃً أَحَبَّ إِلَی اللّٰہِ، وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَہُ مِنْ: [قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ]… (6)
عظمت اُجاگر کرنے کا ایک انداز
رسول اللہ ﷺ نے اِن دو سورتوں کے نزول کے بعد بار بار متعدد مقامات پر بڑے ہی خوبصورت اسالیب اور انداز کے ساتھ اِن کی عظمت اور جلالت کو بیان فرمایا ہے، امام عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا اور آپ کی اونٹنی کی مہار تھام کر آپ ﷺ کے آگے چل رہا تھا… آپ ﷺ نے فرمایا:
أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوْرَتَیْنِ مِنْ خَیْرِ سُوْرَتَیْنِ قَرَأَبِھِمَا النَّاسُ؟ فَأَقْرَأَنِی قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (7)
مُعَوّذَتَینِ پڑھنے کا حکم
نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں کئی بار جہاں اِن دونوں سورتوں کی عظمت کو بیان فرمایا ہے وہاں آپ ﷺ نے کئی دفعہ اِن کو پڑھنے کا اور اِن کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھنے کا بار بار اپنے صحابہ کو حکم بھی دیا ہے، امام عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُّعَوِّذَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃِ (8)
اور اِسی طرح عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:
اقْرَأْ بِھِمَا کُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ (9)
پناہِ الٰہی کے لیے سب سے بہترین معوذتین
گھبراہٹ کے دِنوں میں بالخصوص بے بسی کے لمحات میں اِن دونوں سورتوں کو پورے یقین کے ساتھ ہزار بار پڑھیں، بلکہ پڑھتے رہیں، کوئی دشمن تمہارا ایک بال نہیں اتار سکتا۔ امام عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
بَیْنَا أَ نَا أَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بَيْنَ الْجُحْفَۃِ وَالْأَبْوَاءِ إِذْ غَشِیَتْنَا رِیْحٌ وَظُلْمَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ يَتَعَوَّذُ بِأَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَأَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُوْلُ: يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا (10)
مُعَوّذَتَینِ بہترین علاج اور دم
یہ دونوں سورتیں جسمانی بیماری کے لیے بھی بہترین علاج ہیں، بلکہ کامیاب علاج ہیں… کائنات کی صدیقہ اور عفیفہ ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ كَانَ إِذَا اشْتَکٰی يَقْرَأُ عَلٰی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأْ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِھَا (11)
اور اِسی طرح ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ:
لَدَغَتِ النَّبِیَّ ﷺ عَقْرَبٌ وَھُوَ يُصَلِّی فَلَمَا فَرَغَ قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ العَقْرَبَ لَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَیْرَهَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ وَمِلْحٍ وَجَعَلَ يَمْسَحُ عَلَيْهَا وَيَقْرَأُ بِ [قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ] وَ [قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ] وَ [قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ] (12)
رات کو سوتے وقت مُعَوّذَتَینِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (11)
مُعَوّذَتَینِ تجھے کافی ہیں
امام عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
خَرَجْنَا فِی لَیْلَۃِ مَطَرِ، وَظُلْمَۃٍ شَدِیْدَۃٍ، نَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ لِیُصَلِّیَ لَنَا… قَالَ: قُلْ هُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ، حِیْنَ تُمْسِی، وَحِیْنَ تُصْبِحُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَکْفِیْكَ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ (13)
مُعَوّذَتَینِ کا اصل پیغام
اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے آپ نے بڑے ہی اختصار اور بڑی ہی جامعیت کے ساتھ قرآن شریف کی آخری دو سورتوں کی تفسیر اور اُن کی اہمیت اور فضیلت پڑھ لی ہے، آخر میں ہم چند لفظوں میں آپ کو اِن دو سورتوں کا اصل پیغام بھی واضح کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ شیطان انسان کا بڑا شاطر اور خطرناک دشمن ہے اُس کی خطرناک اور شاطرانہ چالوں میں سے سب سے بڑی چال یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اللہ کے بندوں کو شرک کے پھندوں میں پھنسانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی طرح اللہ کے بندوں کو بھی ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت سے دور کر دیں۔
آپ حضرات کا مرتے دم تک ہر لمحہ شیطان کے ساتھ بڑا سخت مقابلہ ہے، ہمہ وقت اُس کی دشمنی کو اور اُس کی گندی خواہشات کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور یہ آخری دونوں سورتیں بار بار کثرت کے ساتھ سمجھ کر پڑھتے رہیں اور ہر قسم کے شرک اور تکبر سے ہزار دفعہ اللہ کی پناہ میں آئیں، یہی اِن دو سورتوں کا پیغام ہے کہ انسانیت کو اللہ کی پناہ کے علاوہ کوئی چیز پناہ نہیں دے سکتی۔
جو شخص آج بھی قبر والوں کی پناہ میں ہے اور اللہ کے علاوہ مشکلات میں غیروں کو پکارتا ہے اُس کو بری طرح شیطان نے شکست دے دی ہے اُس کو اپنی آخرت کی فکر کر لینی چاہیے، ربّ تعالیٰ ہم سب کو توحید و سنت والا صاف ستھرا اور سچا عقیدہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
حوالہ جات
- (سورۃ الاعراف: 200)
- (سورۃ المؤمنون: 97-98)
- (جامع الترمذی: 2058، سنن ابن ماجہ: 3511)
- (الصحیح لمسلم: 814)
- (مسند أحمد: 17342، سنن النسائی: 5433)
- (مسند أحمد: 17418)
- (سنن أبی داؤد: 1462، سنن النسائی: 5434)
- (سنن النسائی: 1327، سنن أبی داؤد: 1523)
- (سنن أبی داؤد: 1462، سنن النسائی: 5434)
- (سنن أبی داؤد: 1463)
- (صحیح البخاری: 5016)
- (السلسلۃ الصحیحۃ: 848)
- (سنن أبی داؤد: 5082، جامع الترمذی: 3575)

