ادارہ کتاب و حکمت

تعوذ کے فضائل اور اہمیت

تعوذ کے فضائل اور اہمیت، کھلے قرآن مجید اور رحل کے ساتھ خوبصورت اسلامی ڈیزائن

تعوذ کے فضائل اور اہمیت

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۚ اِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ۝۲۰۰ (1)

’’اور اگر شیطان آپ کو کسی طرح اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگیں، بلاشبہ وہ بہت زیادہ سننے والا اور خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘

ہر مسلمان کو سب سے پہلے جس بات کا علم حاصل کرنا چاہیے، وہ اپنے دشمنوں کی پہچان ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان اپنے دشمنوں کی فہرست مرتب کرتا ہے تو سب سے پہلے ابلیس، شیطان اور اس کے چیلوں کا نام آتا ہے۔ شیطان انسان کا ازلی، ابدی اور سخت ترین دشمن ہے۔ اس کا سب سے بڑا ہدف یہ ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا باغی اور نافرمان بنا کر جہنم کا ایندھن بنا دے۔

شرک، بدعت، حرام کاموں، ظلم، فحاشی اور لڑائی جھگڑوں کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ شیطان ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مسلمان کو ان گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات کی تلقین فرمائی ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔ وہ کسی صورت بھی تمہارا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔

اللہ نہ کرے، جب شیطان کی طرف سے برائی کا کوئی وسوسہ آئے تو انسان کو فوراً ’’أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ‘‘ پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح سورۃ الناس کو اپنی زبان کا ورد بنانا چاہیے۔ بالخصوص جب قرآن مجید کی تلاوت شروع کریں تو شیطانی وسوسوں سے بچنے کے لیے ’’أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ‘‘ ضرور پڑھیں۔

اسی طرح غصے کے موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ نے تعوذ پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی رہنمائی فرمائی کہ اگر غصے کی حالت میں کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، اس طرح شیطان کا تسلط ختم ہو جاتا ہے۔

بیت الخلاء جاتے وقت بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اس موقع کے لیے ایک مخصوص دعا بتائی گئی ہے، جس میں ہم اللہ تعالیٰ سے شیطان اور جنوں سے پناہ مانگتے ہیں۔

پناہ کن کن چیزوں سے مانگی جائے؟

پناہ مانگنے میں سرِفہرست شیطان ہے، کیونکہ یہی ہمارا اصل دشمن ہے۔ تاہم، اس کے علاوہ بھی ہم بے شمار آفتوں، مصیبتوں اور گناہوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ کر ہم عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ، ان تمام کمر توڑ آفتوں اور گناہوں سے تیرے سوا ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔

آنے والی سطور میں تعوذ پر مشتمل چند دعائیں تحریر کی جا رہی ہیں۔ ان دعاؤں کو سمجھ کر پڑھتے رہا کریں۔ بالخصوص معوذتین کی اہمیت و فضیلت کے موضوع کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

1۔ شیطانی وسوسوں سے پناہ مانگنے کی دعا
رَّبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ ۝۹۷ۙ وَأَعُوْذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَّحْضُرُوْنِ ۝۹۸ (2)

’’اے میرے پروردگار! میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اے پروردگار! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئیں۔‘‘

2۔ بزدلی، کنجوسی اور عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلٰى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ (3)

’’اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، کنجوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے سخت بڑھاپے کی طرف لوٹا دیا جائے۔ میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

3۔ بے بسی، سستی اور بے فائدہ علم سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا (4)

’’اے میرے اللہ! میں بے بسی، سستی، کنجوسی، سخت بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے۔ تو ہی اسے پاک کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے، تو ہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! میں ایسے علم سے جو فائدہ نہ دے، ایسے دل سے جو نہ ڈرے، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو، تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

4۔ نعمت کے زوال اور اچانک پکڑ سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيْعِ سَخَطِكَ (5)

’’اے میرے اللہ! میں نعمت کے ختم ہو جانے، صحت و سلامتی کے چھن جانے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

5۔ سخت آزمائش اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوْءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ (6)

’’اے اللہ! میں سخت آزمائش، بدبختی میں مبتلا ہونے، فیصلے کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

6۔ غربت، ذلت اور ظلم سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ (7)

’’اے اللہ! میں غربت، کمی اور ذلت سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔‘‘

7۔ بے فائدہ علم، بے خوف دل اور غیر مقبول دعا سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ (8)

’’اے میرے اللہ! میں ایسے علم سے جو فائدہ نہیں دیتا، ایسے دل سے جو نہیں ڈرتا، ایسی دعا سے جو قبول نہیں کی جاتی اور ایسے نفس سے جو سیراب نہیں ہوتا، تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

8۔ نعمت کے زوال اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيْعِ سَخَطِكَ (5)

’’اے میرے اللہ! میں نعمت کے ختم ہو جانے، صحت و سلامتی کے چھن جانے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

9۔ خطرناک بیماریوں سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُوْنِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ (9)

’’اے اللہ! میں جلد کے بگڑ جانے، جسم کے حصے گل سڑ کر الگ ہو جانے، دماغی صلاحیتوں کے ختم ہونے اور خطرناک بیماریوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

10۔ حادثات اور موت کے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ، وَالْغَرَقِ وَالْحَرِيْقِ، وَأَعُوْذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوْذُ بِكَ أَنْ أَمُوْتَ فِيْ سَبِيْلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوْذُ بِكَ أَنْ أَمُوْتَ لَدِيْغًا (10)

’’اے اللہ! میں گرنے، کسی چیز کے نیچے آ جانے، پانی میں ڈوبنے اور آگ میں جل جانے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بدحواس کر دے، اور اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں تیرے راستے میں پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے مر جاؤں۔ اسی طرح تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے کسی موذی چیز کے ڈسنے سے موت آئے۔‘‘

11۔ برے اخلاق، اعمال اور خواہشات سے پناہ مانگنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْوَاءِ (11)

’’اے اللہ! میں برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

12۔ قیامت کے دن مقام کی تنگی سے پناہ مانگنے کی دعا
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ضِيْقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (12)

’’میں قیامت والے دن مقام کی تنگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی خاص نصرت اور حفاظت میں جگہ دے دیں گے تو دنیا کی کوئی شریر طاقت آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لہٰذا مذکورہ بالا تمام اذکار پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئیں۔

حوالہ جات

  1. سورۃ الاعراف: 200۔

  2. سورۃ المؤمنون: 97-98۔

  3. صحیح البخاری: 6374۔

  4. صحیح مسلم: 2722۔

  5. صحیح مسلم: 2739۔

  6. صحیح البخاری: 6347۔

  7. سنن النسائی: 5463؛ الصحیح المسند: 1415۔

  8. سنن النسائی: 5444؛ الصحیح المسند: 758، إسنادہ صحیح۔

  9. سنن النسائی: 5531۔

  10. سنن ابی داؤد: 1553، والحدیث صحیح۔

  11. جامع الترمذی: 3591۔

  12. صحیح ابن ماجہ: 1123؛ صحیح النسائی: 1616۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔