ایک وظیفہ 10 فوائد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا۔
’’میں اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا نبی مان کر راضی ہوں۔‘‘
یہ مختصر مگر جامع کلمات ایک مسلمان کے ایمان، عقیدے اور دینی زندگی کی بنیادوں کو واضح کرتے ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، دینِ اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کا اقرار ہے۔ ان کلمات کو زبان سے ادا کرنے کے ساتھ ان کے مفہوم کو سمجھنا اور ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا بھی ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کلمات کے ذریعے ایمان کی مٹھاس حاصل ہونے کی بشارت دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد روایات میں ان کلمات کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ذیل میں ان کے دس فوائد اور ان سے متعلق اہم امور ذکر کیے جاتے ہیں۔
1۔ ایمان کا ذائقہ نصیب ہوگا
ایمان کی اپنی ایک مٹھاس اور چاشنی ہے، جسے وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جو دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہو۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا۔
’’ایمان کا ذائقہ اس شخص نے چکھ لیا جو اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہوگیا۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث: 34)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی مٹھاس حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر دل سے راضی ہو۔ اس رضا کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو خوش دلی سے اختیار کرے۔
2۔ گناہ معاف کر دیے جائیں گے
گناہوں کی معافی مسلمان کی بڑی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اذان سننے کے بعد مخصوص کلمات کہنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ۔
’’جس نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہوں، تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث: 386)
اس حدیث سے اذان کے بعد ان کلمات کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اذان کا جواب دے اور اس مسنون ذکر کو بھی اہتمام سے پڑھے۔
3۔ ظلم سے نجات ملے گی
اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر راضی ہونے والا شخص مشکلات اور مصائب میں اسی پر بھروسا کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حقیقی اختیار اور اقتدار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، اس لیے وہ ظالم اور جابر لوگوں کے سامنے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک روایت میں یہ کلمات منقول ہیں:
مَنْ خَافَ مِنْ أَمِيرٍ ظُلْمًا فَقَالَ: رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ حَكَمًا وَإِمَامًا، أَنْجَاهُ اللّٰهُ مِنْهُ۔
’’جس شخص کو کسی حاکم کے ظلم کا خوف ہو اور وہ کہے: میں اللہ کو رب، اسلام کو دین، محمد ﷺ کو نبی اور قرآن کو حاکم و رہنما مان کر راضی ہوں، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے ظلم سے نجات عطا فرمائے گا۔‘‘
اس ذکر میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر بھروسا، دینِ اسلام کی پیروی اور قرآن مجید کو رہنما تسلیم کرنے کا اقرار ہے۔ مسلمان کو ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے اور اسی پر توکل رکھنا چاہیے۔
4۔ فرشتے مدد کریں گے اور بشارتیں دیں گے
اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے فرشتوں کے نزول اور جنت کی بشارت کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ اَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ﴾
’’بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوش خبری قبول کرو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے، اور تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم طلب کرو گے۔ یہ بہت بخشنے والے، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے مہمانی ہے۔‘‘
(حم السجدۃ: 30-32)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور پھر اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے فرشتوں کے نزول، خوف و غم سے امن اور جنت کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو رب ماننے کے ساتھ اس پر ثابت قدم رہنا بھی ضروری ہے۔
5۔ عذابِ قبر سے نجات ملے گی
قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔ قبر میں انسان سے اس کے رب، دین اور نبی کے متعلق سوالات کیے جائیں گے۔
اس سے پوچھا جائے گا:
مَنْ رَبُّكَ؟
تیرا رب کون ہے؟
مومن جواب دے گا:
رَبِّيَ اللّٰهُ۔
میرا رب اللہ ہے۔
پھر پوچھا جائے گا:
مَا دِينُكَ؟
تیرا دین کیا ہے؟
مومن جواب دے گا:
دِينِيَ الْإِسْلَامُ۔
میرا دین اسلام ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سوال ہوگا کہ اس ہستی کے متعلق تم کیا کہتے تھے جو تم میں بھیجی گئی تھی؟ مومن جواب دے گا:
هُوَ عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهُ۔
وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
یہ سوالات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول ماننے کا اقرار صرف زبان تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انسان کی عملی زندگی بھی اسی عقیدے کے مطابق ہونی چاہیے۔ جو شخص دنیا میں ان بنیادی حقائق پر ایمان رکھتا اور ان کے تقاضے پورے کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے قبر میں بھی ثابت قدم رہے گا۔
6۔ نبی کریم ﷺ قیامت کے دن بھی خوش ہوں گے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک واقعہ صحیح بخاری میں منقول ہے۔ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے منبر پر قیامت کا ذکر فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف سوالات کے جواب دیے۔ اس دوران آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر جلال کے آثار ظاہر ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا:
رَضِينَا بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا۔
’’ہم اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہیں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ کلمات سن کر رسول اللہ ﷺ کا جلال ختم ہوگیا اور آپ ﷺ کا چہرۂ مبارک روشن ہوگیا۔
اس واقعے سے ان کلمات کی اہمیت اور عظمت واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے ذریعے اپنی رضا اور ایمان کا اظہار کرتے تھے۔
7۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن خوش فرما دے گا
صبح و شام ان کلمات کے پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں ایک روایت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي: رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُرْضِيَهُ۔
’’جو شخص شام کے وقت کہے: میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہوں، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ اسے راضی اور خوش فرما دے۔‘‘
(جامع ترمذی، حدیث: 3389)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن غریب کہا ہے، تاہم بعض محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اس روایت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دل سے راضی رہے۔
8۔ جنت واجب ہو جائے گی
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ۔
’’جس نے کہا: میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہوں، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔‘‘
اس روایت میں ان کلمات کی عظمت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔ جنت کا حصول ہر مسلمان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، اس لیے ان کلمات کو سمجھنا اور ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا نہایت اہم ہے۔
9۔ جنت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ داخلہ نصیب ہوگا
اس ذکر کی فضیلت میں ایک روایت حضرت منذر اسلمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: رَضِيتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، فَأَنَا الزَّعِيمُ لَآخُذَنَّ بِيَدِهِ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ۔
’’جو شخص صبح کے وقت کہے: میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہوں، تو میں اس کا ضامن ہوں کہ ضرور اس کا ہاتھ پکڑوں گا، یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دوں گا۔‘‘
اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جنت میں داخلے کی بشارت بیان ہوئی ہے۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی سعادت ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت میں داخل ہونا اس سے بڑھ کر خوش نصیبی ہے۔
10۔ اللہ تعالیٰ پر راضی ہونے اور اس کی تقسیم پر مطمئن رہنے کی سعادت حاصل ہوگی
ان کلمات کا سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر دل سے اس پر راضی ہو، اس کی عبادت صرف اسی کے لیے خاص کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اسی کے حکم کو مقدم رکھے۔
اللہ تعالیٰ کو رب مان کر راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائے، اسی سے مدد مانگے، اسی کے سامنے ہاتھ اٹھائے، نذر و نیاز اسی کے نام پر دے اور ہر قسم کی عبادت اسی کے لیے خاص کرے۔ وہ پیروں، فقیروں، قبروں اور مزاروں کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھے، کیونکہ نفع و نقصان کا حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا بھی اس اقرار کا اہم تقاضا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ حالات کی تنگی، بیماری، غربت اور دیگر مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ و شکایت کرنے کے بجائے صبر و رضا کا مظاہرہ کرے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان غم محسوس نہ کرے یا مشکلات کے حل کے لیے جائز کوشش چھوڑ دے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اعتراض نہ کرے اور ہر حال میں اسی سے امید رکھے۔
اسلام کو دین مان کر راضی ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان پورے دین کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً﴾
’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔‘‘ (البقرۃ: 208)
اسلام کو دین ماننے والا شخص اس کی تعلیمات کو اپنی ذات، خاندان اور معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتا ہے، اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے اپنا مال اور وقت صرف کرتا ہے اور دین کی سربلندی کے لیے قربانی دینے کا جذبہ رکھتا ہے۔
اسی طرح محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہونے کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول اور بہترین نمونہ تسلیم کیا جائے۔ آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے، صحیح احادیث کو خوش دلی سے قبول کیا جائے اور ہر معاملے میں آپ ﷺ کی اتباع کو ترجیح دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
’’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (الأحزاب: 21)
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ پر کثرت سے درود پڑھا جائے اور اس مقصد کے لیے وہی مسنون الفاظ اختیار کیے جائیں جو آپ ﷺ نے امت کو سکھائے ہیں۔
الغرض، ان کلمات کا مفہوم صرف زبان سے اقرار کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر دل سے راضی ہو کر اپنی پوری زندگی ان کے مطابق گزارنا ہے۔
آج بعض لوگ دنیاوی مال و اسباب، فیشن، حرام کمائی اور دیگر عارضی چیزوں پر خوش ہوتے ہیں، لیکن مسلمان کی حقیقی خوشی یہ ہونی چاہیے کہ اسے اللہ تعالیٰ جیسا رب، اسلام جیسا دین اور محمد ﷺ جیسا رسول نصیب ہوا ہے۔ یہ تینوں نعمتیں دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کلمات کو سمجھنے، ان پر ایمان رکھنے، ان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے اور ہمیشہ ان پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

