ادارہ کتاب و حکمت

چیزوں کی خرید و فروخت میں سود سے کیسے بچیں؟

سوال:

چیزوں کی خرید و فروخت میں سود سے کیسے بچیں؟

جواب:

سچائی اور دیانت کو لازم پکڑیں، تجارت میں شریعت کی حدود کو کراس نہ کریں۔ اگر آپ چیزوں کی خرید و فروخت میں سود سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ اصول یاد رکھیں:

جب جنس ایک ہو اور علت بھی ایک ہو، جیسے سونے کی خرید و فروخت سونے کے ساتھ یا گندم کی گندم کے ساتھ، تو اس میں مقدار برابر ہونا اور سودا نقد ہونا ضروری ہے، ورنہ سود ہوگا۔ اگر مقدار میں کمی بیشی ہوگی تو ربا الفضل ہوگا، اور اگر لین دین ادھار ہوگا تو ربا النسیئہ ہوگا۔

اگر جنس الگ ہو اور علت ایک ہو، جیسے سونے کی چاندی سے خرید و فروخت، کیونکہ ان دونوں میں علت ثمنیت ہے، یا گندم کی چاول سے خرید و فروخت، کیونکہ ان میں علت ماپ تول یا خوراک ہونا ہے، تو اس میں مقدار کا برابر ہونا ضروری نہیں، البتہ سودا نقد ہونا لازمی ہے، ورنہ سود ہوگا۔

اور اگر ان ربوی چیزوں میں جنس بھی مختلف ہو اور علت بھی مختلف ہو تو پھر مقدار کے برابر ہونے یا نقد ہونے کی کوئی قید نہیں ہے، جیسے سونے کی نمک سے خرید و فروخت، خواہ سونا ایک ماشہ ہو اور نمک 50 من ہو، یا چاندی اور کرنسی سے چاول کا لین دین ہو۔

اس حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ اگر دونوں طرف غیر ربوی چیزیں ہوں، جیسے گاڑی، موبائل، مکان وغیرہ، یا ایک طرف ربوی چیز ہو اور دوسری طرف غیر ربوی چیز ہو، جیسے سونے کی موبائل سے خرید و فروخت، تو پھر بھی نہ مقدار کی برابری شرط ہے اور نہ نقد ہونا ضروری ہے۔ ایک موبائل دے کر آپ پچاس موبائل خرید لیں، کوئی ممانعت نہیں ہے۔

نوٹ:

ربوی چیزوں میں سونا اور چاندی شامل ہیں، اور ثمنیت کی وجہ سے کرنسی وغیرہ کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا۔ اسی طرح گندم، جو، کھجور اور نمک بھی ربوی اشیاء ہیں۔ چاول، مکئی وغیرہ کو خوراک ہونے کی وجہ سے ان پر قیاس کیا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔