سوال:
کیا فجر کے بعد سونا مکروہ ہے؟
جواب:
صحیح بات یہ ہے کہ فجر کے فوری بعد سونا حضرت محمد ﷺ کا معمول نہیں تھا۔ آپ ﷺ فجر کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے، اور یہی طرزِ عمل آپ ﷺ کے بعد آپ کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور نیک لوگوں کا بھی رہا۔
آج ہمیں بھی اسی طرز پر اپنا سونا جاگنا رکھنا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سو جاتا ہے تو یہ سو فیصد جائز ہے، اس میں کوئی حرام یا ناجائز کام نہیں۔
اور جن کتابوں میں فجر کے بعد سونے کو مکروہ لکھا گیا ہے، تو اس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہی ہے کہ فجر کے بعد سونا سنت میں پسندیدہ عمل نہیں، نہ یہ کہ فجر کے بعد سونا حرام یا ناجائز ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
![]()

