ادارہ کتاب و حکمت

کیا عورت قبرستان جا سکتی ہے؟

سوال:

کیا عورت قبرستان جا سکتی ہے؟


جواب:

تمام دلائل کو غور سے دیکھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت گاہے بگاہے اپنے کسی عزیز کی قبر پر جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہاں جا کر بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے۔
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کو قبر پر روتے ہوئے دیکھا تو اسے صبر کی تلقین فرمائی اور بے صبری سے منع کیا، لیکن قبرستان آنے سے منع نہیں فرمایا۔
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قبرستان جانا، نبی کریم ﷺ سے قبرستان کی دعا سیکھنا اور بعد میں اپنے بھائی کی قبر پر جانا بھی صحیح دلائل سے ثابت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث نمبر 1056 کے تحت لکھا ہے کہ قبروں کی زیارت کی رخصت میں عورتیں بھی شامل ہیں۔
البتہ عورت کو کثرت سے بار بار قبرستان جانے سے منع کیا گیا ہے۔ خاص طور پر کسی دربار پر قبر والے سے کچھ لینے کے لیے جانا عورت اور مرد، دونوں کے لیے ناجائز ہے اور یہ کھلا شرک ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

عبد المنان راسخ

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔